بھٹکل :17/اکتوبر(ایس او نیوز)تعلقہ بھر میں ریت دستیاب نہیں ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کام تعطلی کا شکار ہوئے ہیں، لوگوں کو اپنے گھر وں کی تعمیر ، مرمت و درستی کے لئے ترساں ہیں، ریت کے لئے ندی ،نالے میں تلاش کی جارہی ہے۔
ضلع میں سب سے زیادہ تیز رفتاری کی طرف گامزن شہر بھٹکل میں گھروں کے تعمیراتی کام حدوں کو چھورہے ہیں، شہر کے ہزاروں باشندے بیرونی ممالک میں روزگار اپنانے کے باوجود اپنا گھر ، تجارتی کامپلکس وغیرہ کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپیہ یہاں خرچ کرتے ہیں ، یہاں متنوع قسم کی عمارتیں آپ کو نظر آئیں گی اور ریاست کے کسی دوسرے مقام پر شاید ہی ایسی نقش ونگاری ملے، اسی طرح بہترین نقش ونگاری کی حامل کئی مساجد یہاں ہیں، زمین کی قلت کو صحیح کرنےکے لئے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کئی منزلوں پر مشتمل فلاٹ بھی یہاں زیر تعمیر ہیں، دیہی علاقوں میں کچھ حد تک ماحول میں سدھار نظر آرہاہے، مندر، گھر وغیرہ کی تعمیر جاری ہے ، حکومت کی جانب سے بھی غریبوں کے لئے سیکڑوں گھر منظور کئے جارہے ہیں، اس کے علاوہ ضلع میں برج، سڑک ، سرکاری عمارتیں سمیت بے شمار ترقی جات والے کام کا ج بھٹکل کا رخ کئے ہوئے ہیں۔ متذکرہ تمام کام کاج بھٹکل تعلقہ کے 10ہزار سے زائد مزدوروں کو روزانہ زندگی گزارے کے لئے سہارا بنے ہوئے ہیں۔ بھٹکل میں اچھی مزدوری کو دیکھتے ہوئے باہر سے ہزاروں مزدور یہاں آتے رہتے ہیں۔
ان مزدوروں کی زندگی تعمیراتی کاموں پر منحصر ہے تعمیراتی کاموں کے لئے ریت دستیاب نہ ہونے سے ان کی زندگی مشکلات میں پھنس گئی ہے۔ سمندر کنارے آنکھوں کے بالکل قریب نظر آنے والے ریت کے ٹیلوں کو دیکھ کر حسرت سے دیکھنے کے علاوہ کچھ کرنہیں سکتے۔ کام پرپہنچنے والے مزدور ریت نہیں ہونے کی بنا پر لوٹ کر گھر چلے آتے ہیں، صنعت کار ی طرف بڑھ رہے عمارات کے مالکان بھی ریت کی قلت سے پریشان ہیں، متعینہ وقت پر کام مکمل کرنے کے لئے بھی ایڑیاں رگڑنا پڑرہاہے، بارش ختم ہونے کے باوجود ریت سپلائی پر پابندی جاری رہنے سے تعمیراتی کام تعطل کا شکار ہیں۔ فوری کاموں کے لئے کمٹہ کی طرف سے فی لاری 15ہزار روپئے کی قیمت پر ریت سپلائی کی جارہی ہے، لیکن متعلقہ ریت کے متعلق کہا جارہاہے کہ یہ ریت معیاری نہیں ہے بس پتھر باندھنے اور ٹائلس جوڑنے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ اسی طرح مقامی سطح پر یہ بھی سنا جارہاہے کہ پڑوسی اضلاع سے کبھی کبھار ہر کسی کی آنکھ بچا کر لاریاں ریت سپلائی کررہی ہیں، لیکن فی لاری 20ہزار روپئے ہونے کی وجہ سے کانٹراکٹر اس سے دور دور رہنے کی اطلاعا ت موصول ہوئی ہیں۔ تعمیراتی کانٹراکٹر اور مزدور لاچار ہوکر ہوناور ، کنداپور کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں۔ ریت کے انتظارعوام سست ہوکر شرالی کی پلی ندی میں تک ریت کی تلاش کررہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ریت کتنی ضروری بن گئی ہے۔ اسی طرح یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہاہے کہ کہیں لوگ اپنےفوری تعمیراتی کاموں کے لئے سمندر کے جوار بھاٹاکے مطابق ندی میں اترکر ریت حاصل کرنے لگیں اور خطرہ ہے کہ کہیں یہ بھی ایک دھندہ نہ بن جائے۔ان تمام حالات کے مدنظر عوام نے ضلعی انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ ہر سطح پر بھلے برے کو دیکھ کر ریت سپلائی کی قلت کو دورکرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ ضروری اقدامات کرے۔
ا س سلسلے میں بھٹکل تعلقہ تعمیراتی مزدور سنگھ کے صدر شری دھر نائک نے دکھڑا سناتے ہوئے کہاکہ بھٹکل میں ریت کی قلت کی وجہ سے 10ہزار سے زائد مزدور تکالیف کو جھیل رہے ہیں، 15ہزار روپئے خرچ کر لائی ہوئی ریت سے بھی مسئلہ حل نہیں ہورہاہے، کیونکہ یہ ریت معیاری نہیں ہونے سے زیادہ تعمیراتی کام کرنا ممکن نہیں ہے ، کانٹراکٹروں کی حالت بھی بیان کے باہر ہے، حالات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ فوری اقدامات کرنے کی انہوں نے مانگ کی ہے۔